مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ یہ انسانی زندگی میں انقلاب برپا کر دے گی، جبکہ دوسری طرف اسی شعبے سے وابستہ بعض ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت کی طاقت انسان کی نگرانی اور قابو سے باہر ہوگئی تو یہی ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے انتہائی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ بحث اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گئی جب اینتھروپک کے محقق جیکب کاکسن نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے کر مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی کمپنیاں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں مصنوعی ذہانت کو زیادہ طاقتور بنانے پر توجہ دے رہی ہیں، جبکہ حفاظتی اقدامات اسی رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے۔
کیا کاکسن کی بات کو محض قیاس آرائی کہہ کر رد کیا جاسکتا ہے؟
کوئی شخص یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ عام لوگوں کو وہ معلومات معلوم ہی نہیں جو کمپنیوں کی اعلیٰ انتظامیہ اور اندرونی ماہرین کو معلوم ہیں، لہٰذا باہر بیٹھ کر مستقبل کے بارے میں ایسی پیش گوئیاں کرنا محض اٹکل پچو ہے۔
یہ اعتراض مکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں۔ کمپنیوں کے اندر ہونے والی تمام گفتگو، تجربات اور مستقبل کے منصوبے عوام کے سامنے نہیں آتے۔
لیکن دوسری طرف کاکسن کوئی عام ناقد نہیں بلکہ خود مصنوعی ذہانت کی صنعت کے اندر کام کرچکے ہیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ وہ اکیلے شخص نہیں جو یہ خطرہ بیان کر رہے ہیں۔ اینتھروپک کے محقق ایون ہیوبنگر سمیت دوسرے ماہرین بھی انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات کے بارے میں سنجیدہ خدشات ظاہر کر چکے ہیں۔
اس لیے کاکسن کی بات کو حتمی سچ سمجھنا بھی درست نہیں، لیکن اسے محض افسانہ یا اٹکل پچو کہہ کر نظر انداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔
ایک بات خاص طور پر قابلِ غور ہے
کاکسن نے اینتھروپک چھوڑنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب اس کے حصص سے متعلق مالی حق حاصل کرنے میں تقریباً دو ماہ باقی تھے۔ یعنی وہ مزید کچھ عرصہ رک کر ایک ممکنہ مالی فائدہ حاصل کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے یہ موقع چھوڑ دیا۔
یہ بات ان کے دعوے کو سائنسی طور پر ثابت نہیں کرتی، لیکن کم از کم یہ تاثر ضرور دیتی ہے کہ وہ اپنے خدشے کو اتنا سنجیدہ سمجھتے تھے کہ اس کی قیمت پر ممکنہ مالی فائدہ بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔
دیکھا جائے تو یہ خدشہ نیا نہیں
مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور کے آغاز ہی سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ اگر انسان ایسی ذہانت پیدا کردے جو انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہو تو پھر طاقت کا توازن کس کے ہاتھ میں ہوگا۔
اس حوالے سے ایک نہایت سادہ مگر گہری مثال دی جاتی ہے
انسان جانوروں سے نفرت نہیں کرتا، لیکن چونکہ انسان زیادہ ذہین اور طاقتور ہے، اس لیے جانوروں کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو اپنے مقاصد کے لیے مناسب سمجھتا ہے۔
اب سوال یہ ہے
اگر کبھی مصنوعی ذہانت انسان سے کہیں زیادہ ذہین اور طاقتور ہوگئی تو کیا وہ انسانوں کو بھی اسی نظر سے دیکھ سکتی ہے؟
یہاں اصل مسئلہ نفرت نہیں بلکہ مقاصد کا مختلف ہونا ہے۔
فرض کریں ہم ایک انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کو کہیں کہ “زیادہ سے زیادہ کاغذ پیدا کرو۔” اگر وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوگئی تو ممکن ہے وہ ایسے راستے اختیار کرے جن میں انسانی مفاد اس کے لیے اہم نہ رہے۔
یعنی خطرہ یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت لازماً انسانوں سے نفرت کرے گی؛ خطرہ یہ ہے کہ اس کے مقاصد اور انسانی مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں۔
پھر کمپنیاں اتنی تیزی سے کیوں آگے بڑھ رہی ہیں؟
یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔
ایک وجہ عالمی مقابلہ ہے۔ ہر کمپنی کو خدشہ ہے کہ اگر وہ رفتار کم کرے گی تو کوئی دوسری کمپنی اس سے آگے نکل جائے گی۔
یوں ممکن ہے کہ سب کو خطرات کا احساس ہو، مگر کوئی بھی پہلا شخص بننا نہ چاہے جو دوڑ سے باہر نکلے۔
اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو ترقی دی جائے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے
اگر ہم نے اپنے سے کہیں زیادہ ذہین اور طاقتور مصنوعی نظام بنا لیا تو کیا ہمارے پاس اسے قابو میں رکھنے کا واقعی قابلِ اعتماد طریقہ بھی ہوگا؟
اگر جواب ہاں ہے تو ہمیں اس طریقے کو مضبوط بنانا چاہیے۔
اور اگر جواب ابھی واضح نہیں تو مصنوعی ذہانت کو مزید طاقتور بنانے کی دوڑ میں حفاظتی اقدامات کو پیچھے چھوڑ دینا شاید انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
کاکسن کی وارننگ کو یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ اے آئی بہت جلد دنیا پر قبضہ کرنے والی ہے، لیکن اسے نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں۔ شاید یہ وقت خوفزدہ ہونے کا نہیں لیکن سنجیدگی سے سوال پوچھنے اور احتیاط کرنے کا ضرور ہے۔
تحقیق و تحریر سید علی اصغر قادری
